Saturday, July 25, 2015

غزل مرے وحشی مری ہر چیز تو برباد کر دے گا



مرے وحشی مری ہر چیز تو برباد کر دے گا
بچے گا جو اسے آ کر عدو برباد کر دے گا

پھر اُس دم مے کدے کو راس آئے گا لہو میرا
خمارِ ذات جب رنگِ سبو برباد کر دے گا

خبر کیا تھی کہ وہ تیغِ انا کے وار کر کر کے
ہمیں ایسے ہمارے رو بہ رو برباد کر دے گا

دِرایت میرے فکر و آگہی کو زندگی دے گی
روایت میں تجھے تیرا غلو برباد کر دے گا

غریبِ شہر کو خوابیدگی کا زہر پینے دو
یہ اٹھے گا تو سارے کاخ و کو برباد کر دے گا

نکل آئے گا کوئی حل مگر ڈر ہے مجھے یہ بھی
ترا لہجہ فضائے گفتگو برباد کر دے گا

No comments:

Post a Comment